ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ’’بہار حکومت طلبہ کوپڑھنے دے،سڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور نہ کرے‘‘

’’بہار حکومت طلبہ کوپڑھنے دے،سڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور نہ کرے‘‘

Sun, 03 Jul 2016 23:15:16    S.O. News Service

کنہیاکمارنے طلبہ تحریک کی حمایت کی،نتیش سرکارسے مسائل کوجلدحل کرنے کامطالبہ
پٹنہ3جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جے این یواسٹوڈنٹ یونین کے صدرکنہیا کمار نے پٹنہ آرٹس کالج میں جاری طلبہ کی تحریک کو ختم کرائے جانے اور بہار پبلک سروس کمیشن کے امتحان کی تاریخ میں تبدیلی کی اپیل بہار حکومت سے کرتے ہوئے آج کہا کہ طلبہ کو پڑھنے دیا جائے، ان کوسڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے۔پٹنہ میں آج صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کنہیا نے کہا کہ یکساں تعلیم سے ہی معاشرے میں مساوات آ سکتی ہے۔لوگوں کی تعلیم اور قابلیت کی بنیاد پر ان روزگار فراہم کیا جانا چاہئے لیکن اسے لے کرحکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ طلبہ کو سڑکوں پر اترنا پڑتا ہے۔ملک میں تعلیم اور روزگار کو الگ الگ کرکے دیکھے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کنہیا نے بی پی ایس سی کے امتحان کی تاریخ آگے نہیں بڑھائے جانے پراعتراض کیا۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تئیں ایسی سمجھ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن ، منتخب کرنے کیلئے نہیں بلکہ ان کی برخاستگی کیلئے امتحان کاانعقادکرتاہے۔دو الگ الگ تاریخوں میں امتحان ہونے پر شریک یو پی ایس سی اور بی پی ایس سی دونوں کے امتحان میں شامل ہو سکتے ہیں۔کنہیا نے پٹنہ آرٹس کالج کے طلبہ کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے ریاست کی نتیش کمارحکومت سے مذکورہ معاملے میں فوری کارروائی کرنے، وہاں کے پرنسپل کو لمبی چھٹی پر بھیجے جانے کے بجائے انہیں برخاست کرنے، طلبہ پر درج مقدموں کوواپس لینے کامطالبہ کیا۔انہوں نے جن طلبہ کے امتحان ابھی تک منعقد نہیں کئے جاسکے ان کے امتحان کیاانعقاداورماسٹر ان فائن آرٹس کی پڑھائی کا آغاز کئے جانے کی اپیل کی۔
کنہیا نے حکومت سے اس معاملے کی عدالتی جانچ کرا لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے بہار میں طلبہ کو تشدد پر آمادہ ہونے کیلئے بھڑکائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جمہوری سماج اور کسی بھی پرامن معاشرے کیلئے یہ خطرناک ہے۔طلبہ ملک کے مستقبل ہیں اور انہیں اس بات کیلئے مجبورنہیں کیاجائے کہ وہ اپنی پڑھائی چھوڑ کر سڑکوں پر اتریں۔کنہیا نے مگدھ یونیورسٹی میں امتحان کے نتائج میں ہوئی رکاوٹ پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طلبہ یونیورسٹی کیلئے بوجھ ہیں۔انہوں نے قومی اور ریاستی سطح پرتعلیم کی مبینہ بدحال صورتحال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کوملک کامستقبل کہاجاتاہے لیکن اگرانہیں صحیح سے علم ہی نہیں دیاجائے گا تو وہ بہتر معاشرے کی تعمیرکیسے کریں گے۔کنہیا نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں آتے ہوئے تعلیم کے بجٹ میں بھاری کٹوتی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے کی بنیاد ہی کمزور ہوگی وہ معاشرے کتنا مضبوط اور بہتر ہو گا اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم طالب علم ہیں پڑھنا ہمارا کام ہے۔لیکن پڑھائی ٹھیک طریقے سے نہیں ہونے پر، چوکنا طالب علم ہونے کے ناطے تعلیم کو بہتر کرنے کیلئے لڑنا ہماری ذمہ داری ہے۔کسی سے ہماراتعلق اچھا یا برا نہیں ہے۔کسی شخص سے تعلقات کا مسئلہ نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ مودی جی بہت دور اور نتیش جی بہت قریب ہیں۔ہم تعلیم کو اپنے لئے اور آنے والی نسل کیلئے بہتر کرنا چاہتے ہیں اور اس سوال کو لے کر جو بھی ہمارے مسئلے کو سنیں گے وہ ہمارے لئے بہتر ہیں۔لہٰذا کسی کے تئیں نفرت اور کسی کے تئیں محبت ہمارے دل میں نہیں ہے اور اس طرح چیزوں کودیکھا جانا بھی نہیں چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بی پی ایس سی کے امتحان کے سوال کو لے کر کمیشن کے صدرسے ملناچاہااوروزیراعلیٰ سے بھی ملنے کا وقت مانگا پر ان میں سے کسی سے بھی ہماری ملاقات نہیں ہو پائی۔


Share: